لاڑکانہ میں مبینہ بھتہ خوری، دکان سیل اور سنگین دھمکیوں کا معاملہ، تاجر برادری میں تشویش کی لہر
متاثرہ دکاندار کا دعویٰ — اسسٹنٹ کمشنر اور مختیارکار کی نگرانی میں ڈیڑھ لاکھ رقم طلب، انکار پر دکان سیل، موبائل چھینا اور گولی مارنے کی دھمکی
لاڑکانہ کے مصروف کاروباری علاقے، کامرس کالج کے سامنے واقع ایک دکان کے مالک مجہد نے ضلعی انتظامیہ کے بعض افسران پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ تجاوزات کے نام پر ان سے مبینہ طور پر بھاری رقم طلب کی گئی، رقم ادا نہ کرنے پر ان کی دکان سیل کر دی گئی، اور انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔ اس واقعے کے بعد مقامی تاجروں اور شہریوں میں شدید بے چینی اور تشویش پائی جا رہی ہے۔
📋 اہم نکات — Key Facts at a Glance
- ابتداً ایک لاکھ، پھر ڈیڑھ لاکھ روپے طلب کیے جانے کا الزام
- اسسٹنٹ کمشنر راجا قریشی اور مختیارکار جاوید احمد پر الزام
- دکان کو سرِ عام ہجوم کے سامنے سیل کیا گیا
- ویڈیو بنانے پر موبائل فون چھیننے کا الزام
- گولیاں مارنے جیسے الفاظ استعمال کرنے کا دعویٰ
- دکاندار کے پاس سالانہ سرکاری فیس کی رسیدیں موجود ہیں
متاثرہ دکاندار مجاهد کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اسسٹنٹ کمشنر راجا قریشی اور مختیارکار جاوید احمد کی نگرانی میں تجاوزات کے خلاف کارروائی کے نام پر ان کی دکان پر عملہ پہنچا۔ مجہد کا کہنا ہے کہ ابتدا میں ایک لاکھ روپے طلب کیے گئے، تاہم بعد ازاں یہ رقم بڑھا کر ڈیڑھ لاکھ روپے کر دی گئی۔ دکاندار نے سوال اٹھایا ہے کہ آیا یہ واقعی قانونی جرمانہ تھا یا بھتہ خوری کی شکل۔
مجاهد کے مطابق انہوں نے حکام سے کچھ مہلت طلب کی تاکہ اپنی قانونی پوزیشن واضح کر سکیں، تاہم کوئی رعایت نہ دی گئی اور دکان فوری طور پر سیل کر دی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ کارروائی کسی باقاعدہ قانونی نوٹس یا تحریری حکم کے تحت نہیں ہوئی۔
"گولیاں مارنے جیسے الفاظ بھی کہے گئے — جس سے وہ اور ان کا خاندان شدید خوف و ہراس میں مبتلا ہیں۔"
دکاندار نے بتایا کہ یہ تمام کارروائی لوگوں کے بڑے ہجوم کے سامنے سرِ عام کی گئی، جس سے نہ صرف کاروباری ساکھ متاثر ہوئی بلکہ انہیں شدید ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کا کہنا ہے کہ گولیاں مارنے جیسے الفاظ بھی استعمال کیے گئے، جس سے وہ اور ان کا خاندان خوف و ہراس میں مبتلا ہیں۔
مجاهد کے مطابق اگر یہ تجاوزات کے خلاف قانونی کارروائی تھی تو پہلے سے نوٹس، دستاویزات اور باضابطہ رسیدیں فراہم کی جانی چاہئیں تھیں۔ صرف زبانی طور پر رقم طلب کر کے دکان سیل کرنا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔
مجاهد نے انکشاف کیا کہ حکومت کی جانب سے تجاوزات کی سالانہ فیس باقاعدگی سے وصول کی جاتی ہے اور ان کے پاس رسیدیں موجود ہیں۔ جب پہلے سے سرکاری فیس ادا کی جا رہی ہے تو مزید ڈیڑھ لاکھ روپے طلب کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سالانہ فیس کے علاوہ وقتاً فوقتاً دس اور پندرہ ہزار روپے بھی وصول کیے جاتے رہے ہیں۔ ان ادائیگیوں کے باوجود اضافی رقم طلب کرنا ایک غیر شفاف اور مشکوک عمل معلوم ہوتا ہے۔
واقعے کے دوران جب دکاندار نے کارروائی کی ویڈیو بنانے کی کوشش کی تو مبینہ طور پر موبائل فون بھی چھین لیا گیا۔ الزام ہے کہ ایسا شواہد محفوظ نہ رہنے دینے کی غرض سے کیا گیا۔ یہ نہ صرف مبینہ بدسلوکی بلکہ شواہد دبانے کی کوشش کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
اس واقعے کے بعد تاجر برادری میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کئی تاجروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس سے پہلے بھی مالی دباؤ ڈالے جانے کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں، تاہم اس بار معاملہ دکان سیل، بھاری رقم اور دھمکیوں تک پہنچا، جس سے خوف کی فضا پیدا ہو گئی ہے۔
📢 متاثرہ دکاندار کے مطالبات — Key Demands
- پورے معاملے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں
- جرمانے کی تحریری دستاویزات، نوٹس اور سرکاری رسیدیں منظر عام پر لائی جائیں
- ذمہ دار افسران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے
- دکان فوری طور پر ڈی سیل کر کے کاروبار بحال کیا جائے
- موبائل فون فوری واپس کیا جائے
- جان و مال کے تحفظ کے لیے حکومتی مداخلت کی جائے
مجاهد نے اعلیٰ حکام، کمشنر لاڑکانہ اور سندھ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر واقعی قانونی جرمانہ تھا تو تحریری دستاویزات سامنے لائی جائیں، بصورت دیگر اس کارروائی کو مبینہ بھتہ خوری تصور کیا جائے اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے۔
شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے واقعات سرکاری اداروں کی ساکھ پر سوالات اٹھاتے ہیں۔ حکومت سے مطالبہ ہے کہ ذمہ داران کا تعین کر کے مثال قائم کی جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔
⚠️ نوٹ: یہ رپورٹ متاثرہ فریق کے بیان پر مبنی ہے۔ Peoples TV PK متعلقہ افسران کا موقف جاننے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہے۔
Note: This report is based on the complainant's statement. Peoples TV PK is seeking the official response from the named officials.